ابھی تو عنوان دینا ہے
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiابھی تو ابتداء ہے کلام کا جو تم پر لکھنا ہے
ابھی تو عنوان دینا ہے ابھی انجام لکھنا ہے
ابھی تو ابتدائے عشق کے قصے ہی لکھے ہیں
ابھی وعدے لکھنے ہیں مکر جانا بھی لکھنا ہے
ابھی وہ راز لکھنے ہیں جو تھے درمیاں اپنے
ابھی پردہ اٹھانا ہے اب ہر راز لکھنا ہے
ابھی یہ سوچنا بھی ہے کہ اس کونام کیا دونگا
کہانی سچی بتانی ہے یاصرف افسانہ ہی لکھنا ہے
اب یہ فیصلہ تم کو کرنا ہے کہ اس کو نام کیا دو گے
مجھےجھوٹا بتانا ہےیا پھرخود کو فرشتہ لکھنا ہے
More Love / Romantic Poetry






