ابھی نثر نثر ہے زندگی مری زندگی کو غزل کرو
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadابھی نثر نثر ہے زندگی مری زندگی کو غزل کرو
کبھی آرزوؤں کی جھیل میں مری خواہشوں کو کنول کرو
کبھی خوف ہجر طویل کا کبھی شوق ہے تری دید کا
دل مضطرب کے یہ مسئلے ہیں جو آؤ تو انہیں حل کرو
یہ جو سربریدہ وجود ہے اسے اپنے ہونٹوں کا لمس دو
مجھے زندگی کی طلب نہیں مرے نام بس کوئی پل کرو
نہ میں خوش گماں ہوں وصال سے نہ تو بدگماں ہو فراق سے
ترے دل کا جو بھی ہے فیصلہ مری جاں اسی پہ عمل کرو
مرے ساتھ چلنا ہے گر چلو مرے دل پہ شاہی تمہاری ہے
مجھے چھوڑنا ہے تو چھوڑ دو جو بھی فیصلہ ہے اٹل کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







