اب تلک یاد ہیں وہ چشم و لب و گوش مجھے
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi ساقیا ! ایسا پلا بادہ ء سر جوش مجھے
بے خودی جس سے بڑھے ، کچھ نہ رہے ہوش مجھے
جس طرف جاؤں ، سبھی لوگ کہیں دیوانہ
حسن جاناں نے بنایا ہے یوں مدہوش مجھے
بھول سکتا ہی نہیں دل کو سراپا ان کا
اب تلک یاد ہیں وہ چشم و لب و گوش مجھے
ہے وہ پہلے سا ستم اب نہ وہ بیداد کہیں
کر دیا اس نے ہے شاید کہ فراموش مجھے
مستیاں ایسی بھلا ساغر و مینا میں کہاں ؟
کر دیا جیسے تری آنکھوں نے مدہوش مجھے
چارہ گر مہر بلب بیٹھا ہے بالیں پہ مری
یاس و حرماں نے کیا ایسے ہم آغوش مجھے
تیری الفت نے خوشی کوئی نہ چھوڑی گھر میں
کر دیا عشق نے دنیا میں الم کوش مجھے
میں بروں سے بھی برا ، آپ ہیں اچھے سب سے
آئیے ! آج نیا دیجے کوئی دوش مجھے
اب تو عصیاں پہ بھی دل ناز کیا کرتا ہے
للہ الحمد ! ملا تم سا خطا پوش مجھے
کہہ گیا راز میں رومی ! وہاں کیونکر سارے
بزم میں کاش کراتا کوئی خاموش مجھے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






