اب میں تبدیل ہوتا جا رہا ہوں
Poet: شہزاد حسین سائل(shahzad hussain sa'yl) By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotاب میں تبدیل ہوتا جا رہا ہوں
ہستی اپنی بھلاتا جا رہا ہوں
تشنگی بڑھ گئی ہے اب اتنی
دل کا میں خون پیتا جا رہا ہوں
عادیِ خود نمائی ہو گیا ہوں
خود میں تحلیل ہوتا جا رہا ہوں
اس کو پرواہ تو نہیں لیکن
درد اپنا سناتا جا رہا ہوں
زندگی آخرش پہ آ پہنچی
اپنے دل کو لبھاتا جا رہا ہوں
کچھ تو وعدے وفا کرو تم بھی
میں تو سب کو نبھاتا جا رہا ہوں
کب کا سائل کو بھول بیٹھا وہ
اور میں خود کو رلاتا جا رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






