اب کیوں چہرے پر حسن و جمال نہیں آتا
Poet: mehak ijaz By: mehak ijaz, lahoreاب کیوں چہرے پر حسن و جمال نہیں آتا
اسکو خیال میں بھی میرا خیال نہیں آتا
اس بار جو عید آئیگی وہ کیا رنگ پہنے گی
محبت کی خماری چھائیگی بھلا کس انداز سے خود کو سجائیگی
اب اسطرح کا کوئی بھی سوال نہیں آتا
اسکوخیال میں بھی میرا خیال نہیں آتا
وہ جو چھوڑ مجھکو چلا گیا
جان توڑ مجھکو رلا گیا
مسکان میری مٹا گیا
اس بات کا انکو ذرا بھی ملال نہیں آتا
اسکو خیال میں بھی میرا خیال نہیں آتا
میں فقط سوچوں اور وہ میرے پاس آجائے
بنا بتائے ہی میری روح میں اتر جائے
کیوں اسے ایسا ہی کوئ کمال نہں آتا
اسکو خیال میں بھی میرا خیال نہں آتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






