اب کے آؤ گے جانا ں !
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratاب کے آؤ گے جانا ں
تو دور نہ جانے دیں گے تجھے
کہ اپنی ہر سانس میں بسا لیں گے
تو آئے گا تو سنواریں گے خود کو
روپ مہکے گا میرا تیرے لمس کی شدت سے
بہت پیا ر سے سنبھالیں گے تجھ کو خود میں
جیسے کے صنم کا پہلو اور گلاب
دل کے رخسار پر تیری سانسوں کی خوشبو اُتار لیں گے
تو آبھی جا اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ میرا ہر لمحہ بس تیر ا ہی ہونا چاہتا ہے
تیرے انتظار میں یہ سرد شامیں گزر نہ جا ئیں کہیں
میرے ٹھٹھرتے ہا تھ تیرے ہا تھو ں کی حدت چاہتے ہیں
میں جان چکی ہو ں تو ہے درخشاں حیات میری
تیری صورت خزاں کو ٹال رکھے گی
عالمِ بہار کو زندہ رکھے گا وجود تیرا
تو جو آن ملے اک بار ۔۔۔۔۔۔۔
میری تقدیر سنور جائے گی
تجھے خود میں یو ں پیوند کر لوں گی
کہ جیسے ریشم، اطلس اور کمخواب میں بُنے ہوئے لفظ
تم آجاؤ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتلائیں گے تجھ کو
کہ فقط تجھ کو ہی چاہا ہے،تجھی کو پوجا ہے
میرے واسطے تیری دلکش آنکھوں کے سوادنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو آن ملے تو پھر جنت کی طلب کیا ہے
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






