اس سے بچھڑ جانا ضروری تھا
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratاس سے بچھڑ جانا ضروری تھا
غم کے اس پار اتر جانا ضروری تھا
حزیں نہ ہوئے ہم بھی بہت ٹوٹ کر
پتھر نہ بن جائیں اس در پہ بکھر جانا ضروری تھا
شام محبت بھی ڈھلتی گئی اس پل
کہکشاں سے پر ےسحر جانا ضروری تھا
نرم قالین کی طرح میری ہتھلیاں اس کے واسطے
نہ دکھ جائیں نازک پاؤ ں وہاں بہہ جانا ضروری تھا
وہ رہتا تھا میرے ساتھ بے چین سا
چپ چاپ اپنے نگر جانا ضروری تھا
کوئی مسیحا، کوئی ہمدرد نہ تھا زمانے میں
جھکی آنکھوں کے ساتھ گھر لوٹ جانا ضروری تھا
بن اس کے بھی تو نہ جیا جانا تھا
چپکے سے اپنی ذات میں مر جانا ضروری تھا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






