انتظار اُس کا کرتے رہے اَنگوٹھی ہاتھ میں لئے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaانتظار اُس کا کرتے رہے اَنگوٹھی ہاتھ میں لئے
تنہا ترے لئے بیٹھے رہے اَنگوٹھی ہاتھ میں لئے
فجر سے ہوا وقت شام کا مگر تُم نہ آئے
خنجر خوف کے سہتے رہے اَنگوٹھی ہاتھ میں لئے
آثار نہ تھے ترے آنے کے مگر آؤ گے
در و دیوار سے کہتے رہے اَنگوٹھی ہاتھ میں لئے
بے تابیوں کے ہجوم میں تڑپتے رہے ہم
پھر اشکوں سنگ بہتے رہے اَنگوٹھی ہاتھ میں لئے
نہال روتے روتے سو گئے ترے انتظار میں ہم
نام ترا فقط لیتے رہے اَنگوٹھی ہاتھ میں لئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






