انمول اور نایاب
Poet: hukhan By: hukhan, karachiکچھ پل اس کے ساتھ یوں بیت جاتی ہیں
گھنٹے لمہوں میں بدل جاتے ہیں
ہم تنگ کرے تو وہ شکوہ کیئے جاتے ہیں
ہم ان کے بے کلی پر دل ہی دل مسکرائے جاتے ہیں
وہ مسکرائے تو ہم دل ہار جاتے ہیں
وہ انمول ہم نایاب کہلائے جاتے ہیں
ہر صبح بس ہم مسکرائے جاتے ہیں
وہ بھی اپنا آپ بھول کے ہمارے ہونے جاتے ہیں
خان اپنا بنا لو ورنہ ہیرے تو چرائے جاتے ہیں۔
More Love / Romantic Poetry






