اِس قَدَر فاصلے وہ بڑھانے لگے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگاِس قَدَر فاصلے وہ بڑھانے لگے
ہم سے اب رنجشیں بھی مٹانے لگے
ہم میں شامل وہ ہوتے تھے کچھ اس طرح
چاند ساگر میں جیسے نہانے لگے
کل تلک جن کی آنکھوں کے کاجل تھے ہم
آج وہ ہم سے نظریں چرانے لگے
جو کبھی ہم سے ملتے تھے دل کھول کر
اب وہ چہرا بھی اپنا چھپانے لگے
ہم پہ کرتے رہے ہیں جو گل پاشیاں
اب وہ راہوں میں کانٹے بچھانے لگے
دو کھڑی ہاتھ بس سینکنے کے لیے
وہ مرا جھونپڑا ہی جلانے لگے
جانے کیوں اپنی سانسیں اکھڑنے لگیں
جس گھڑی شہر وہ چھوڑ جانے لگے
چشم رو رو کے دیپک جو شل ہو گئے
اپنی قسمت پہ ہم مسکرانے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






