سارے عالم سے میں بے خبر ہو گیا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Jhangسارے عالم سے میں بے خبر ہو گیا
جب سے اس کا مرے دل میں گھر ہو گیا
میری ان سے ہمیشہ عداوت رہی
جن کا تیری گلی سے گزر ہو گیا
جانتا تھا کہ وہ سچ نہیں کہہ رہا
اس کی باتوں کا پھر بھی اثر ہو گیا
جسم کی بھوک جب حد سے باہر ہوئی
اِنس رشتوں سے بھی بے خبر ہو گیا
کاٹ کر اس کا ایندھن بنایا گیا
پیڑ گلشن میں جو بے ثمر ہو گیا
تنگ مظلوم پر یہ زمیں ہو گئی
اور ظالم یہاں پہ نِڈر ہو گیا
رہنما اور رہزن کی تفریق میں
طے مری زندگی کا سفر ہو گیا
ایک شبنم کا موتی تھا دیپک مگر
وقت کی آگ میں یہ شرر ہو گیا
More Love / Romantic Poetry






