اپنے حق میں ہیں دونوں دیواریں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالاپنے حق میں ہیں دونوں دیواریں
بیچ جن کے دراڑ ہے حائل
کس عدالت میں کیجیئے فریاد
ایک دوجے کے ہم ہی ہیں قاتل
وصل اگرچہ پسند آیا ہمیں
ہجر ہی تھا مزاج کے قابل
اب بھلا کون اِن سے بحث کرے
صُورتوں سے ہیں ناصحا جاہل
ایک دوجے سے ایسے ملتے ہیں
جیسے دریا سے مل رہے ساحل
جنگ لڑنے کا مت کہو مجھ سے
کہ میں اپنے گماں میں ہُوں گھائل
اُٹھ کے اب موت کا کر استقبال
زندگانی گزر گئی کاہل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






