اپنے مرے پیاروں کو نیا سال مبارک
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiاپنے مرے پیاروں کو نیا سال مبارک
ان چاند ستاروں کو نیا سال مبارک
جو پیار محبت کو سمجھتے نہیں ہیں کھیل
ان عشق کے ماروں نیا سال مبارک
کرتے ہیں زمیں نم نہیں رہتے ہیں وہاں خود
بہتے ہوئے دھاروِں کو نیا سال مبارک
دلدارِ محبت میں ناکام ہوئے جو
سب ہجر کے ماروں کو نیا سال مبارک
توقیر سلامت رہے محسن ہیں وطن کے
استاد اداروں کو نیا سال مبارک
دن رات نہیں دیکھتے تعلیم میں ہیں محو
طالب علم ساروں کو نیا سال مبارک
مزدور کو دہقان کی کھیتوں سے محبت
افسر کے اشاروں کو نیا سال مبارک
فوجی ہیں بہادر نہیں کرتے ہیں سیاست
پولیس کے یاروں کو نیا سال مبادک
سب دوست مرے بھائی سلامت رہیں ماں باپ
ان میرے سہاروں کو نیا سال مبارک
پھولوں کی یہ کلیاں اسی کے دم سے حسیں ہیں
گلشن میں بہاروں کو نیا سال مبارک
جہنوں نے ابھی تک نہیں شہزاد کی شادی
کہتے ہیں گنواروں کو نیا سال مبا رک
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






