اک حسیں سراپا نگاہوں میں
Poet: UA By: UA, Lahoreاک حسیں سراپا نگاہوں میں یوں سمایا ہے
مجھے اپنے آپ میں بھی حسن نظر آیا ہے
دیکھتے ہی دیکھتے میں کیا سے کیا ہو گئی
مجھ میں اس طرح سے کوئی اور اتر آیا ہے
جب آئینے کو دیکھوں تو دیکھتی رہ جاؤں
آئینے کے روبرو کس روشنی کا سایا ہے
ایسا حسیں منظر کہیں پہلے کبھی دیکھا نہیں
جو میری نظروں سے ہو کہ دل میں اتر آیا ہے
عظمٰی یہ رنگ و روشنی کا عکس دل نشیں
تمہاری طرح میری بھی نظر بہت بھایا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







