اگر ملنا ہو تو ملنے کے کتنے ہی بہانے ہیں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanرفاقت کے تری قصے کئی برسوں پرانے ہیں
مگر اب تک ہمیں سب یاد وہ گزرے زمانے ہیں
ہوائیں بھی بڑی پر زور ، موجیں بھی ہیں طوفانی
سفر دشوار ہے اور دور بھی اپنے ٹھکانے ہیں
یہ کیسے مان لوں مجبور ہیں وہ آ نہیں سکتے
اگر ملنا ہو تو ملنے کے کتنے ہی بہانے ہیں
انھیں بھی ناز نظروں پر ، ہمیں بھی ناز ہے دل پر
چلائیں تیر نظروں کے سب ہم نے آزمانے ہیں
نئی الفت میں خود کو مبتلا کرنے سے ڈرتے ہیں
ابھی تو پہلی چاہت کے الم دل سے بھلانے ہیں
یہ روح و جسم کا رشتہ تو اک دن ٹوٹ جانا ہے
حقیقت ہے یہی سب سے بڑی باقی فسانے ہیں
کسی بھی شہر میں پائی نہ لوگوں سے وفا ہم نے
رہیں اب اس جگہ زاہد جہاں ہر سو ویرانے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






