ایسا نہیں کہ مجھے خبر نہیں
Poet: Minhas By: Farasat ali, Lahore نہیں,
ہم جانتے ھیں تم ناراض ھو ہم سے,
تمھیں شکوہ ھے نا ھم سے,
کہ منایا کیوں نہیں ہم نے,
چلو ھم بتاتے ہیں تم کو
کہ منایا کیوں نہیں ہم نے
کہ تم جب خفا خفا سے رھتے ہو
لبوں کو سی کر آنکھوں سے بات کہتے ہو
میں مناوں گا ایسا سوچ کر
تم میرے آس پاس رہتے ھو
ہنسی ہنسی میں سب کہہ دیتے ھو یوں کہ
انکھ میری طرف بات کسی اور سے کہتے ھو
کیا بتاوں جاناں کہ ایسے میں
تم مجھے کتنے پیارے لگتے ھو
یہ سب محسوس کر کے خود پے نازاں ھوتا ھوں
کہ تم مجھ سے اتنا پیار کرتے ھو
انہی سوچوں میں کھو کر سوچتا ھوں
کہ خفا ہی رھنے دوں یا منا لوں تم کو
ایک الجھن سی ھے دل میں
کہ چھپا لوں یہ راز یا بتا دوں تم کو
دل تو اب چاھتا ھے کہ پکڑوں ہاتھ تیر
اور کھینچ کے سینے سے لگا لوں تم کو
چلو تم ھی بولو تم ہی بتا دو کچھ
کہ یوں ھی رہنے دوں یا منا لوں تم کو؟
یوں ھی دور دور رھنے دوں ؟
یا پھر سینے سے لگا لوں تم کو؟
چلو ایسا کرتے ھیں..
ایک قدم تم بڑھاو 2قدم میں بڑھاتا ھوں
گلے میں بازوں تم ڈالو
سینے سے میں لگاتا ھوں
آنکھیں بند تم کرو شرما کر
اور سینے پے میں سلاتا
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






