ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں
Poet: واصف By: واصف, Gujranwalaایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں
اس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میں
سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا
لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں
تو نے کیا جرم کیا ہوگا جو میں رہتا رہا
اتنا عرصہ مرے چندا ترے پیارے دل میں
تیرا رونا ترے کچھ کام نہیں آئے گا دوست
سبز بتی پہ نہیں کھلتے اشارے دل میں
اس کی آنکھوں سے جو دیکھے تھے انہی خوابوں نے
آج کل آگ لگا رکھی ہے سارے دل میں
کوئی دو چار نئے زخم کہ رش پڑ جائے
صرف اک ڈر رہا کرتا ہے بے چارے دل میں
سچے دل والی مرے حجرے میں رہتی ہے حضور
میٹھے پانی کا کنواں ہے مرے کھارے دل میں
میرا اللہ مرے ساتھ ہے وہ جانتی ہے
اس نے ڈرتے ہوئے چلوائے ہیں آرے دل میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






