ایک قصہ
Poet: ایمان شہزاد By: Emaan shehzad, Karachiبیٹھ کر پاس میرے, اک چڑیا نے آج یہ سوال کیا
ہم تو ٹہہرے پرند, انسان نے انسان کا کیا حال کیا؟
بے زبان مَیں ,مگر "چوں چوں " کرکے ذاکرِ خدا ہوئی, اور تو
اہلِ زبان بھی ہوا اور "میں میں" سے خود کو نکلنا محال کیا
بنا مشین کے اڑوں میں , اور تکبر تمہارا آسمان چھوئے
عقل کی بنیاد پہ اشرف ہوا, مگر عقل کا نہ استعمال کیا
جو دنیا کی پٹی تو باندھے ہے آنکھوں پر....کیا بھول گیا؟
ہر شاہ کا کفن میں لپیٹ کہ عروج خدا نے زوال کیا
یہ حال تیرا ہوا تب سے تو بھولا ہے جب سے خودی کو
ورنہ خود بتا کَیا نہ تیرا مرتبہ خدا نے بے مثال کیا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






