اے ھم سخن جب بھی تیری تحریر پڑھتا ہوں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاے ہم سخن جب بھی تیری تحریر پڑھتا ہوں
تو اپنے لفظ اپنے استعارے بھول جاتا ہوں
اجالوں سے بھری صبحیں
گلوں سے تازگی لے کر
کرن سے روشنی لے کر
خمار زندگی لے کر
جگاتی ہیں امنگوں کو
تو راتوں کی سیاہی میں
جو سوچیں دیکھتی ہیں خواب سارے بھول جاتا ہوں
نجانے کیسا جادو ہے
تیرے طرز تکلم میں
کہ لمحے جھوم جاتے ہیں
چمن کو چوم جاتے ہیں
ستارے رقص کرتے ہیں
طلاطم گھوم جاتے ہیں
تخیل سوچ میں پڑ کر
معانی بھول جاتا ہے
حوادث کی مصائب کی
کہانی بھول جاتا ہے
کئی گزرے ہوئے لمحے
مسلسل یاد آتے ہیں
سلایا ہے جنہیں میں نے
وہی مجھ کو جگاتے ہیں
تمہیں معلوم ہی کب ہے
دل ناکام کا قصہ
تمہیں معلوم ہی کب ہے
کہ وہ جذبوں بھرے لمحے
کبھی جب یاد آتے ہیں
تو پھر کتنا رلاتے ہیں
تمہارے لفظوں کا جادو
میرے خوابیدہ رازوں کو
کبھی لوری سناتا ہے
کبھی جنجھوڑ دیتا ہے
میری وحشت کی لہروں کا
یہ رخ یوں موڑ دیتا ہے
کہ ساحل ۔ ناؤ ۔ منزل اور کنارے بھول جاتا ہوں
اے میرے ہم سخن جب بھی تیری تحریر پڑھتا ہوں
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






