بات جو بن گئی تھی لمحوں میں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreبات جو بن گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔لمحوںمیں
ایسی بگڑی بنی نہ۔۔۔۔۔۔۔صدیوں میں
نغمے ڈھلنے لگے ہیں۔۔۔۔۔۔۔نالوں میں
درد سا بھر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔سازوں میں
اُس کو دنیا سے کیا غرض۔۔ اے دوست
وہ جو کھویا تیرے ۔۔۔۔۔۔۔خیالوں میں
اُس کے چہرے کی روشنی ۔۔اے دھنک
ہم نے دیکھی ہزار۔۔۔۔۔۔رنگوں میں
خوشبو بن کے وہ روز ۔۔۔۔۔۔۔آتا ہے
روز ملتا ہے مجھ کو۔۔۔۔۔۔پھولوں میں
جس کے ہونٹوں سے پھول جھڑتے ہیں
کھینچ لایا ہے مجھ کو۔۔۔۔۔۔ کانٹوں میں
لہجہ جس کا ہے لہجہ ہے ۔۔۔۔شبنمی یارو
آگ سی رکھ گیا ہے ۔۔۔۔۔زخموں میں
تم سے ملتی ہے ہوبہو ۔۔۔۔۔۔۔جاناں
ایک تصویرتھی۔۔۔۔۔۔خیالوں میں
اُس کی آنکھیں تمام۔۔۔۔۔۔۔ میخانہ
شام رہتی ہے اُس کی۔۔۔ زلفوں میں
چاند جھومر ہے اُس کے ۔۔۔۔ماتھے کا
نقشِ پا دیکھئے۔۔۔ ۔۔۔۔ستاروں میں
تیری خاطر زمیں پہ ۔۔۔۔۔آیا ہوں
حُسن ایسا کہاں تھا ایسا۔۔۔حوروں میں
یہ سب تمہارا ہی فیض ہے ۔۔۔جاناں
درد میٹھا ہے میرے شعروں۔۔ میں
پوچھتا ہے وہ مجھ سے۔۔ رشکِ بہار
رنگ کس کا ہےتیری۔ غزلوں میں
وہ تو یوں بس گیا ہےدل میں۔ وسیم
جیسے خوشبو بسی ہو۔ ۔ پھولوں میں
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






