بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا
Poet: عابد جعفری By: مصدق رفیق, Karachiبصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا
تجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھا
وجود سونپ کے سب کچھ بچا لیا ہم نے
نہ آنکھ میں کوئی آنسو نہ سانحہ دیکھا
کتاب زیست بھی اپنی نہیں رہی کہ یہاں
ہر اک ورق پہ نیا ایک حاشیہ دیکھا
خلاف موج سمندر شناس بہہ نکلے
میں جس طرف گیا طوفان ہی اٹھا دیکھا
More Love / Romantic Poetry






