بچھڑنے سے کچھ پہلے
Poet: falak By: fauzia, rahim yar khanموہوم سی جنبش پلکوں کی جذبوں کو نم کر جائے گی
لرزتے ہونٹوں پہ کوئی بات نہ ڈھنگ سےآئے گی
ہاتھوں کو لے ہاتھوں میں ڈھارس بندھائی جائے گی
عہدوپیماں کی رسم پھر سے دھرائی جائے گی
پہلی فرصت میں لوٹوں گا ہر لمحہ تم کو سو چوں گا
حراساں دل کی دھڑکن ترتیب میں لائی جائے گی
وہ بات کہ دو دلوں کو جسکا دھڑکا ہے
زباں نہ کہہ پائے گی آنکھوں سے بہہ جائے گی
جوڑے میں پھول لگاوگی نہ گجرے سے کلائی مہکاوگی
کچھ حق جتایا جایے گا کچھ محرومی بہلائی جائے گی
وہ ہاتھ نہ چھوڑیں گے میرا میں بھی نہ چھڑانا چاہونگی
بچھڑنے سے کچھ پہلے کی ملاقات تا دیر بڑھائی جائے گی
More Love / Romantic Poetry






