تم ستاروں جیسے ہو
Poet: rizwana By: rizwana, torontoتم ستاروں جیسے ہو
چمکتے رہتے ہو
تم پھولوں جیسے ہو
مہکتے رہتے ہو
تم چندا جیسے ہو
دور ہی رہتے ہو
تم دریاؤں جیسے ہو
اشکوں سا بہتے ہو
تم ہواؤں جیسے ہو
سانسوں میں رہتے ہو
تم ہیروں جیسے ہو
نایاب ہی رہتے ہو
تم موسموں جیسے ہو
بدلتے رہتے ہو
تم ستاروں جیسے ہو
چمکتے رہتے ہو
تم پھولوں جیسے ہو
مہکتے رہتے ہو
تم چندا جیسے ہو
دور ہی رہتے ہو
تم دریاؤں جیسے ہو
اشکوں سا بہتے ہو
تم ہواؤں جیسے ہو
سانسوں میں رہتے ہو
تم ہیروں جیسے ہو
نایاب ہی رہتے ہو
تم موسموں جیسے ہو
بدلتے رہتے ہو
تم دعاؤں جیسے ہو
لبوں پہ رہتے ہو
تم تمناؤں جیسے ہو
مچلتے رہتے ہو
تم بہاروں جیسے ہو
رنگوں میں رہتے ہو
تم خابوں جیسے ہو
آنکھوں میں رہتے ہو
تم دھڑکنوں جیسے ہو
دل میں رہتے ہو
تم وعدوں جیسے ہو
وفاؤں میں رہتے
تم عاشقوں جیسے ہو
حسیناؤں میں رہتے ہو
جاری ہے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






