تنہائی کا جال

Poet: محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ By: Mohammed Masood, Nottingham

نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی

ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی

جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی

مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی

ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی

کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی

رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی

کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی

مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی

Rate it:
Views: 1
02 Jul, 2026
More Sad Poetry