زخم پر زخم سہنے کے بعد

Poet: محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ By: Mohammed Masood, Nottingham

دل کی بستی اُجڑ گئی سہہ جانے کے بعد
ہم نے چپ کا ہنر سیکھا، کہہ جانے کے بعد

شام ڈھلتے ہی چراغوں نے سوال کر لیا
کیوں اندھیرا بڑھ گیا ہے، رہ جانے کے بعد

ہم نے دریا سے یہ پوچھا تیری وسعت کا سبب
ہنس کے بولا، میں بڑھا ہوں بہہ جانے کے بعد

اب تو آئینے بھی ڈرتے ہیں مجھے دیکھ کر
کون پہچانے گا مجھ کو، ڈھہ جانے کے بعد

لوگ کہتے ہیں مسافر کو ٹھکانہ مل گیا
کیا خبر تھی، گھر بھی ملتے ہیں بہک جانے کے بعد

تیرا وعدہ تھا کہ پلٹیں گے اداسی کے دن
ہم نے جینا سیکھ لیا ہے، نہ آنے کے بعد

وقت کے ہاتھوں میں رکھ کر اپنی تقدیر، مسعودؔ
ہم بھی پتھر ہو گئے ہیں، پگھل جانے کے بعد

Rate it:
Views: 1
07 Jul, 2026
More Sad Poetry