تیرا چہرا
Poet: Shahid Mukhtar Ronaq By: Shahid Mukhtar Ronaq, Islamabadکبھی گلاب کبھی آفتاب کبھی کنول لگتا ہے
تیرا چہرا تو مجھے میری ہی غزل لگتا ہے
آنکھ میں تیری یہ کاجل بڑا قاتل لگتا ہے
گیسوُءِ یار ساون کا سیاہ بادل لگتا ہے
چہرا تیرا سمندر ہے دل میرا ساحل لگتا ہے
پھر بھی دونوں کا جدا ہونا مشکل لگتا ہے
ماتھے پر بندیا تیرے مہتاب کی سی ہے
جوڑے میں سجا پھول خوشبو میں تیری پاگل لگتا ہے
شعر جو تم پڑھتے ہو نظمیں میری جو تم سنتے ہو
اور کچھ نہیں یہ تیرے پیار کا حاصل لگتا ہے
رونق ہر لفظ اسکا فصلِِ گل لگتا ہے
موسمِ بہار بھی مجھے اُسی کا بدل لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






