تیری یاد توشہ درد تھی جب اٹھے تھے تیرے دیار سے
Poet: Chaudhry Tahir Ubaid Taj By: Chaudhry Tahir Ubaid Taj, Islamabadتیری یاد توشہ درد تھی جب اٹھے تھے تیرے دیار سے
نہ ملی فرار کی کوئی جا غمِ زندگی کے حصار سے
وہ رفاقتوں کا ہی فیض تھا کہ کمال جس نے عطا کیا
کبھی دوستی تھی خزاں سے بھی، اب عداوتیں ہیں بہار سے
ملی خاک میں تری آبرو، تھا تو سر بسر ہمہ جستجو
جو تھا گامزن رہِ شوق پر، تجھے کیا ملا دلِ زار سے
ابھی خود نوشت بھی کیا لکھیں جو عبارتوں میں بھی کھوٹ ہو
کہ فرار کو تو نے جا بجا یوں بدل دیا ہے قرار سے
تیری چال مشقِ عروض ہے، تو غزل ہے یا کہ غزال ہے
ہے ردیف زلفِ دراز سے، ملا قافیہ لبِ یار سے
یہ وصال تاج عجیب تھا کہ کمال جس نے عطا کیا
غمِ زندگی دلِ زار سے، غمِ عاشقی دلِ یار سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






