جب بھی پیار کی نگاہ نگاہوں میں پھیل جاتی تھی
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجب بھی پیار کی نگاہ نگاہوں میں پھیل جاتی تھی
اُس جوانی کی ڈھلتی رِدا ہواؤں میں پھیل جاتی تھی
چھپاکے پھول کتابوں میں اپنے سینے پہ دباکے رکھے
یوں کلیوں کی خوشبوءُ دھڑکنوں میں پھیل جاتی تھی
چاندنی کو دیکھ کر بھی اکثر دیئے جلائے رکھتی وہ
یہ پاگل سے لڑکی کبھی قضاؤں میں پھیل جاتی تھی
جس کا بھی غم مٹانے گئے وہ غم پھر نکل پڑا
یوں ہر لمحہ مۂ کشی سزاؤں میں پھیل جاتی تھی
کسی اجڑے شخص نے گلستاں کو صدا دے دی کہ
چمن کی اڑتی خاک میری راہوں میں پھیل جاتی تھی
میں نے حقیقت عیاں کی وہ شکوہ سمجھ بیٹھے
ایسے بھی سنتوشؔ زندگی گناہوں میں پھیل جاتی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






