جواب
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiبہت حیران ہوکر
کس قدر معصومیت سے پوچھتی ہو تم
”مجھے تم اتنا چاہتے ہو؟
تم اتنا پیار کرتے ہو؟“
اے سپنوں سی حسیں جاناں
مرے دل کی مکیں جاناں
مری زہرہ جبیں جاناں
دو اپنا ہاتھ یہ پھولوں سا نازک میرے ہاتھوں میں
چلو تم کو بتاتا ہوں
مجھے تم سے ہے کتنا پیار
یہ تم کو دکھاتا ہوں
وہ دیکھو نا
سمندر دیکھتی ہو تم
نظر کی آخری حد تک کا منظر دیکھتی ہو تم
مری تم سے محبت کی طرح ساری حدوں سے ماورا ہے یہ
چلو اب آسماں دیکھو
ہے کیسا بے کراں دیکھو
بس ایسے ہی
محبت کی مری حد ہے کوئی اور نہ کنارہ ہے
مجھے دنیا کی ہر شے سے تمھارا ساتھ پیارا ہے
بس اتنا جانتا ہوں میں
مری آنکھیں، مرا چہرہ
مری روح اور میرا دل پڑھو نا
صاف لکھا ہے
مجھے تم سے
محبت ہے
محبت ہے
محبت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






