حسین ابن علی کا وقار باقی ہے

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

حسین ابنِ علی کا وقار باقی ہے
کہ حق کے واسطے دل میں نکھار باقی ہے

حسینؑ وہ کہ جسے کربلا نے پہچانا
دلوں میں ان کا وہی انتظار باقی ہے

حسینؑ وہ کہ جسے سجدے نے دوام دیا
اسی کے نام کا روشن دیار باقی ہے

وہ پیاس جو لبِ اصغرؑ پہ توڑ دم گئی تھی
کہ مومنو کے دلوں میں خمار باقی ہے

وہ خیمے، آگ، یتیمی، وہ شامِ غم کا سفر
ہر ایک دل میں وہی یادگار باقی ہے

یزیدیت کے اندھیروں کو جس نے توڑ دیا
وہی تو دین کا اعلیٰ شعار باقی ہے

وہ سر جو کٹ گیا لیکن نہ جھک سکا شہزاد
اسی وفا کا سدا اعتبار باقی ہے

Rate it:
Views: 0
27 Jun, 2026
More Love / Romantic Poetry