خاموشیوں میں اِک شور سُنائی دیتا ہے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaخاموشیوں میں اِک شور سُنائی دیتا ہے
تنہاہیوں میں اِک عکس دکھائی دیتا ہے
تری یہ ادا بھی تجھے بے وفا ثابت کرتی ہے
تُو جو چیخ چیخ کے صفائی دیتا ہے
کہاں کی محبت آج کل کے دور میں
وفائوں کا طلبگار بھی بے وفائی دیتا ہے
تاریخ میں درج ہو گا ترا میرا نام
مجھے اپنا کل آج میں دکھائی دیتا ہے
عشق جیسا بھی نہ کوئی ظالم ہو گا
جو محفلوں سے نکال کے تنہائی دیتا ہے
عشق نے عالموں کو سوچ میں ڈھال دیا
ماہر و عالموں کو صاحبِ عشق پڑھائی دیتا ہے
عشق نے کومل پَری کوئی خاص پڑھایا مجھے
پہلا ہی سبق بڑا مشکل دکھائی دیتا ہے
عشق جو کرئے سوالات عاشقوں سے نہال
جواب فقط کوئی ماہرِ سخن ہی دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






