دل نے مگر یہ مان لیا، آپ کیا نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan" ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیں"
دل نے مگر یہ مان لیا، آپ کیا نہیں
ہم نے تو چاہا تھا فقط سچ کی روشنی
آپ نے پھر بھی یہ کہا، ہم سے خطا نہیں
آنکھوں میں اک اُداس سی چمک رہ گئی ہے اب
پہلے یہ حال تھا کہ کوئی غم ذرا نہیں
وہ بھی تو اپنے وعدوں سے مُکرے ہیں بارہا
پھر بھی وہ کہتے پھرتے ہیں ہم میں وفا نہیں
کیسے یقین دل کو دلائیں کہ سچ یہی
ہم نے کبھی بھی چاہتوں کو آزما نہیں
رستے جدا ہوئے تو یہ محسوس یوں ہوا
جیسے کوئی بھی اپنے سوا آشنا نہیں
وشمہ" یہ سچ ہے آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں
پر آپ کو بھی اس کا ابھی تک پتہ نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






