دل کے صحرا

Poet: فرید علوی By: Ghulam Farid, Karachi

دل کے صحرا میں کوئی پھول کھلایا نہ گیا
درد ایسا تھا کہ ہنس کر بھی چھپایا نہ گیا

ہم نے ہر موڑ پہ چاہا تھا سہارا کوئی
اپنی قسمت سے مگر ہاتھ ملایا نہ گیا

رات آنکھوں میں کٹی، خواب بھی ٹوٹے سارے
دل کا ویران نگر پھر سے بسایا نہ گیا

جس کو اپنا سمجھا، وہی بیگانہ نکلا
زخم ایسا تھا کہ برسوں بھی بھلایا نہ گیا

ہم نے خاموشی کو سینے سے لگا رکھا تھا
حالِ دل پھر بھی زمانے سے چھپایا نہ گیا

وقت کے ساتھ سبھی لوگ بدل جاتے ہیں
دل کو یہ راز مگر پہلے بتایا نہ گیا

اب نا امیدی کے سائے ہیں ہر اک جانب علوی
کوئی امید کا جگنو بھی جلایا نہ گیا

Rate it:
Views: 44
13 May, 2026
More Love / Romantic Poetry