دنیا کا ایک خواب سا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillمیری ریاضتوں کا صلہ یہ دیا مجھے
منزل قریب آئی تو بھٹکا دیا مجھے
یزداں نے چھین کر وہ حسیں خلد کا میلہ
دنیا کا ایک خواب سا پکڑا دیا مجھے
میں ڈھونڈ رہا تھا تیرے احساس کی ٹھنڈک
شعلے کی طرح وقت نے دہکا دیا مجھے
اپنا شعور ۔ ذوق تڑپ ۔ تاب شاعری
مت پوچھ تیرے عشق نے کیا کیا دیا مجھے
پاتا ہوں اپنے آپ کو اک خواب نگر میں
اس پھول نے کچھ اس طرح مہکا دیا مجھے
وہ عالم خوش رنگ نظر کا فریب تھا
تتلی نے آ کے کان میں بتلا دیا مجھے
اس دور کو سہنے کی کہاں دل میں تاب تھی
اک آرزو کے زعم نے بہلا دیا مجھے
افسردگی میں بیٹھے ہیں سب اہل بہاراں
لگتا ہے جیسے آپ نے ٹھکرا دیا مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






