دو لاین والی شاعری
Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham(71)
کیسے کہوں کہ سانس سے زندہ ہوں
جب کہ سانس سے پہلے تیری یاد آتی ہے
(72)
وہ نہ آۓ گا ہمھیں معلوم تھا اِس شام بھی
انتظار اُس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے ہیں
(73)
نہ جانے کون سی آنکھیں وہ خواب دیکھیں گی
وہ ایک خواب کہ ہم جس کے انتظار میں ہیں
(74)
دنیا میں اِس کا کوئی خریدار ہی نہیں
میں بچتا ضرور جو بکتا میرا نصیب
(75)
اِس انتظار سے ہم بھی گُزر چُکے اب تو
جس انتظار انسان مر بھی جاتا ہے
(76)
میں چاہتا تھا روح اُسے سونپ دوں مگر
اس آدمی کی صرف بدن نگاہ تھی
(77)
شبِ غربت کی ہوا تیز بہت ہے مسعود
اب ہمھیں آنکھ کے اندر ہی دیا رَکھنا ہے
(78)
رات کیا رات تھی جنت کا گماں تھا جیسے
دو دل جواں تھے دونوں ہی تھے پیاسے
(79)
تاروں کی ضیا دل میں ایک آگ لگاتی ہے
آرام سے راتوں کو سوتے نہیں سودائ
(80)
دُکھ یہ نہیں ہے کہ کوئی اپنا نہیں مسعود
دُکھ تو ہے کسی نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






