دیا بجھا ہے انہیں کے گھر کا کہ جن میں کچھ حوصلہ نہیں ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ROMANIAدیا بجھا ہے انہیں کے گھر کا کہ جن میں کچھ حوصلہ نہیں ہے
میں کیسے کہہ دوں کہ آندھیوں میں چراغ کوئی جلا نہیں ہے
ہے مذہبوں میں یہ کیسی نفرت ، عداوتیں دل میں جاگزیں ہیں
جدا ہے چہرہ، بدن جدا ہے ، لہو کی رنگت جدا نہیں ہے
جدید طرزِ عمل نے کھیلا ہے بے حیائی کا کھیل ایسا
نہین ہے رخ پر حجاب باقی ، نگاہ میں بھی حیا نہیں ہے
سسک رہی ہے غریب بیٹی، ضعیف والد بھی رو رہا ہے
دلہن بنے گی رچے گی مہندی ، نہ جانے کب، یہ پتا نہیں ہے
کہیں بھی ہو حادثہ وطن میں ہمیں ہیں ملزم ہمیں ہیں مجرم
ہے کو ن ملزم ہے کون مجرم کسی سے اب تو چھپا نہیں ہے
نظر ہے اپنی خیال اپنا جہاں میں وشمہ کا فیصلہ ہے
کہیں بھی سب کچھ بھلا نہیں ہے کہیں بھی سب کچھ برا نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






