دیکھتے ہوئے ہمیں شور مچا دیتے ہیں
Poet: By: AB shahzad, Mailsiدیکھتے ہوئے ہمیں شور مچا دیتے ہیں
ایک ہم ہیں انہیں ہروقت دعا دیتے ہیں
ڈائری میں وہ نشانی تو لگا دیتے ہیں
یاد ہر وقت دلاتا ہوں بھلا دیتے ہیں
میں تو احساس محبت کا دلاتا ہوں اسے
کہتے کچھ بھی نہیں نظروں سے گرا دیتے ہیں
ہوتا ہے دست فلک کا ابھی سایہ ان پر
پیار کرتے کی بلا کر ہی سزا دیتے ہیں
ایک ہم ہی نہیں ہیں اور بھی دیوانے جو
جلد بازی میں ہی زنجیر ہلا دیتے ہیں
ہوئی جن جن سے ملاقات سبھی باتیں وہ
جو بتانی نہیں ہوتی وہ بتا دیتے ہیں
خوبصورت حسیں ان جیسا نہیں دیکھا کہیں
وہ حسینوں کے اٹھے سر کو جھکا دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






