دیکھے ہیں حکومت کے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiدیکھے ہیں حکومت کے تو دستور نرالے
ہر چیز ہے مہنگی مریں گے لوگ بچارے
سبزی یہ ٹماٹر نہیں دال بھی سستی
مہنگائی میں لوگوں نے کشکول اٹھالے
مخلص نہیں اب دوست رہے حال برا ہے
اب ملتے نہیں ہیں کہیں چائے کے پیالے
احساس دلایا ہے یقیں ہو گیا پختہ
ممکن ہو مرے ساتھ چلے وقت گزارے
کوئی نہیں ہے حال غریبوں کا بچالو
غربت ہے بہت بھوک سے مرجائیں گے سارے
مزدور کماتے ہیں جو پورا نہیں ہوتا
اب ہوتے نہیں گھر میں غریبوں کے اجالے
غربت نے یہ شہزاد مرا حال کیا ہے
جب کی ہے مسافت تو پڑے پاؤِں میں چھالے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






