اک بار مجھے آخری دیدار کرا دے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiاک بار مجھے آخری دیدار کر ا دے
میں موت کی آغوش میں ہوں یار بچالے
میں مر گیا تو یادیں بھلا دینا سبھی وہ
میں نے جو لکھے خون سے تھے خط وہ جلالے
رونا نہیں تربت پہ مری یار کبھی تم
تکلیف بہت ہوگی یہی عہد نبھالے
زندہ ہوں ابھی یار مرا تو میں نہیں ہوں
پھر کون سنے گا تو ابھی حال سنالے
مت کپڑے پہننا یہ ۔ نئے کپڑے لے لینا
اچھے نہ لگیں گے یہ تجھے کپڑے تو کالے
مت ہونا پریشان ترے ساتھ رہوگا
خوش رہنا تجھے کرتا خدا کے ہوں حوالے
شہزاد غمِ ہجر سبھی بھول ہی جانا
میں جانتا ہوں تم ہو بہت یار جیالے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






