زندگی
Poet: wasi shah By: fatima ali, quettaمجھے ہر خط میں لکھتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟
تمھیں میں یاد آتی ہوں؟
میری باتیں ستاتی ہیں
میری نیندیں جگاتی ہیں
میری آنکھیں رلاتی ہیں
دسمبر کی سنہری دھوپ میں
اب بھی ٹہلتے ہو؟
کسی خاموش رستے سے
کوئی آواز آتی ہے؟
ٹھٹرتی سرد راتوں میں
تم اب بھی چھت پہ جاتے ہو؟
فلک کے سب ستاروں کو
میری باتیں سناتے ہو؟
کتابوں سے تمھارے عشق میں
کوئی کمی آئی؟
یا میری یاد کی شدت سے
آنکھوں میں نمی آئی؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






