شعر
Poet: Faraz By: Haroon Afzal, Gujratمجھے تم روح میں بسا لو تو اچھا ہے فراز
دل و جان کے رشتے اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
---------------------------
ابھی تو مل کے چلتے ہیں سمندر کی مسافت میں
پھر اس کے بعد دیکھیں گے کنارہ کون کرتا ہے
---------------------------
یہی سوچ کر اس کی ہر بات کو سچ مانا ہے فراز
کہ اتنے خوبصورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے
-------------------------
میری ہر مانگی دعا بےکار گئی فراز
جانے کس شخص نے چاہا تھا بڑی شدت سے اسے
------------------------
اس کی اس بے وفائی پہ فدا ہوتی ہے جان اپنی فراز
خدا جانے اگر اس میں وفا ہوتی تو کیا ہوتا
------------------------
ہم نیند کے زیادہ شوقین نہیں فراز
کچھ خواب نہ دیکھیں تو گزارہ نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








