ضرورت کیا ہے
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiبات کو اتنا بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
شہر کو چھوڑ کے جانے کی ضرورت کیا ہے
عین ممکن ہے کبھی ختم ہوں رنجش ساری
گھر میں دیوار اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
بچوں کی ضد ہے کہیں اور رہیں گے جا کے
آخر اس گھر کو بنانے کی ضرورت کیا ہے
ہم تو آپس میں ہی ہیں دست گریباں سب سے
ہم کو دشمن سے لڑانے کی ضرورت کیا ہے
جن کو بچپن میں سکھایا ہو بزرگوں کا ادب
ان کو آداب سکھانے کی ضرورت کیا ہے
میں ابھی زندہ ہوں ہر بوجھ اٹھانے کے لیے
بوجھ بچوں کو اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
مٹ گیا نام و نشاں دنیا سے میرا اب تو
قبر پر تختی لگانے کی ضرورت کیا ہے
آشیاں اب یاں بنانے کی ضرورت کیا ہے
پھر نئی دنیا بسانے کی ضرورت کیا ہے
بات کرنا بھی گوارا نہیں جن کو ہم سے
ان کو منہ اپنے لگانے کی ضرورت کیا ہے
جس کو احساس نہ ہو تیری محبت کا کبھی
اس کو سینے سے لگانے کی ضرورت کیا ہے
ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی مل نہ سکا
اس کو چھوڑ کے جانے کی ضرورت کیا ہے
تم کو دینا تھا مرا ساتھ پریشانی میں
اس طرح ساتھ نبھانے کی ضرورت کیا ہے
تم محبت میں نہیں عادی وفا کرنے کے
تم سے اب پیار بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
جن کی فطرت میں ہے ڈسنا وہ ڈسیں گے ارشیؔ
آستینوں میں چھپانے کی ضرورت کیا ہے
دشمنی اور بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
پھر کوئی آگ لگانے کی ضرورت کیا ہے
خوب واقف ہیں ترے بدلے ہوئے لہجے سے ہم
تم کو کسی بہانے کی ضرورت کیا ہے
اس حنا کی ہی مہک تیرا پتا دیتی ہے
اس کو ہاتھوں پہ لگانے کی ضرورت کیا ہے
ہم تڑپ اٹھتے ہیں محفل میں ترے آنے سے
اس طرح سامنے آنے کی ضرورت کیا ہے
تجھ کو آنا ہی نہیں تو ذرا کھل کے بتا دے
اس طرح خاب میں آنے کی ضرورت کیا ہے
جب یہ معلوم ہے دشوار ہے ملنا اپنا
ایسے پھر خواب دکھانے کی ضرورت کیا ہے
تم کو معلوم ہے بے مول ہوں بکنے والا
پھر مرا دام لگانے کی ضرورت کیا ہے
اب تجھے بات بنانے کی ضرورت کیا ہے
اس طرح نظریں چرانے کی ضرورت کیا ہے
کوئی غم خوار تجھےیاں نہیں ملنے والا
سب کو غم اپنے بتانے کی ضرورت کیا ہے
مجھ کو مارنے کو ایک تو ہی کافی ہے
لاؤ لشکر کیوں لانے کی ضرورت کیا ہے
آ نہیں سکتا وہ اس طرح مقابل میرے
اس کو پھر ایسے ہرانے کی ضرورت کیا ہے
ایسے سچ لکھنے لکھانے کی ضرورت کیا ہے
خود کو مشکل میں پھنسانے کی ضرورت کیا ہے
جس کی اوقات نہیں مجھ سے نظر ملائے
اس کو نیچا دکھانے کی ضرورت کیا ہے
کاٹ دی جائے گی تیری زباں کچھ کہنے پر
کوئی آواز اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
سب کو جلوہ دکھانے کی ضرورت کیا ہے
ہر جگہ نین لڑانے کی ضرورت کیا ہے
کچھ تو دشمن بھی بنا لو کے کبھی کام آئیں
سب کو دوست بنانے کی ضرورت کیا ہے
سنگ دل لوگ ہیں یہ کچھ نہ سنیں گے تیری
ان کو دکھڑا سنانے کی ضرورت کیا ہے
تم کو کرنا ہی نہیں عشق و محبت ہم سے
اس طرح نین لڑانے کی ضرورت کیا ہے
اک ملاقات ہی میں جانے کی اتنی جلدی
پھر کبھی لوٹ کے آنے کی ضرورت کیا ہے
تم کو معلوم ہے مرجائیں گے پروانے پھر
اس طرح شمع جلانے کی ضرورت کیا ہے
اس نے چھوڑا ہے تجھے لیکن ابھی زندہ ہے
اس طرح سوگ منانے کی ضرورت کیا ہے
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں






