ضروری تو نہیں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadدنیا ملے بن کے وفا یہ بھی ضروری تو نہیں
دیدے وفا سب کو صدا یہ بھی ضروری تو نہیں
ہیں ہزاروں غم جو یہاں تو لاکھوں مرہم بھی یہاں
پر مل جائے سب کو شفا یہ بھی ضروری تو نہیں
ہر سُو ایک شمٰی جلے پروانے آ آ کے مریں
سب کو محبت دے سزا یہ بھی ضروری تو نہیں
دنیا مجھے سمجھا رہی ساحل سے نہ دل لگا
لہریں یہ دیں سب کچھ مٹا یہ بھی ضروری تو نہیں
ساجد ساتھ سب کے چلیں آگے صرف آگے بڑھیں
منزلیں دیں سب کو دغا یہ بھی ضروری تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






