عشق بھی کرتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreعشق بھی کرتے ہیں رسوائی سے گھبراتے ہیں
خود بھی ڈرتے ہیں اور ہم کو بھی ڈراتے ہیں
اس زمانے میں کوئی چین سے کب جیتا ہے
رنج و کلفت غم و آلام سب ہی تو اٹھاتے ہیں
ایک تم ہی نہیں دنیا میں اور بھی ہونگے
کانٹوں میں پھول کی صورت مسکراتے ہیں
زخموں کو دل میں چھپا کے جیتے ہیں
تنہا روتے ہیں اور بزم کو ہنساتے ہیں
آدمی وہ نہیں جو سب کو حال دل کہہ دیں
دکھ کہتے ہوئے اوروں کو بھی رلاتے ہیں
نامرادی ہے فقط ان کا مقدر پیارے
زمیں پہ فتنہ و فساد جو پھیلاتے ہیں
دنیا قائم ہے ایسے بےمثال لوگوں سے
خاک ہو کر جو امن کے گل کھلاتے ہیں
پھولوں کی زندگی دو دن کی سہی زندگی ہے
اپنی خوشبو سے وہ گلشن کو تو مہکاتے ہیں
تلاش حق کی جستجو کریں صحراؤں میں
اپنی جنت بیابانوں میں جو بساتے ہیں
اپنا دامن حرص و ہوس سے بچاتے ہیں
یہی منعم ہیں کہ جو مال حق کماتے ہیں
گرچہ فن سخن طرازی خوب ہے عظمٰی
کم سخن لوگ بھی فرزانے مانے جاتے ہیں
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا







