غمِ روزگار

Poet: رضوانہ مسرت By: Rizwana Musarrat, Skardu

کچھ ہاتھ مجھے زخم لگانے میں لگے ہیں
کچھ زلفِ پریشاں کو سجانے میں لگے ہیں

ہمدرد نہیں ان کو منافق ہی کہیں گے
خود آگ لگا کر جو بجھانے میں لگے ہیں

بیٹوں کو محبت کے لیے وقت کہاں ہے
دن رات مشقت سے کمانے میں لگے ہیں

کچھ ابرِ کرم ہم پہ کرو رحمت عالم
ہم لوگ گلستاں کو بچانے میں لگے ہیں

جو لوگ سناتے ہیں مجھے خوابِ گریزاں
وہ سوزِ دروں میرا جگانے میں لگے ہیں

Rate it:
Views: 1
29 Jun, 2026
More Sad Poetry