تنہائی کا جال
Poet: محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ By: Mohammed Masood, Nottinghamنہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی
ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی
جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی
مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی
ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی
کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی
رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی
کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی
مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






