فلک کے ستارے میری بات سن!
سخن کی زباں میں کچھ الفاظ بن!
کیا تو نے ہے دیکھی وہ نازک پری؟
جو دیکھی تو ہے تیری قسمت بڑی!
کیا اس نے تجھ سے کبھی بات کی؟
بتائی کوئی بات میری ذات کی؟
ہوا کے جھونکے بتا تو مجھے!
اس کے نگر میں ملا کیا تجھے؟
کیا چہرے سے اس کے ہٹائے تھے بال؟
کیا ہے اس کا ویسا ہی رعب و جمال؟
مجھے تیری قسمت کا ارمان ہے!
شب و سحر تو اس کا مہمان ہے!
چندا تجھے کیسے چھوڑوں گا میں؟
تیرے راز سارے جھنجھوڑوں گا میں!
کیا تیری چاندنی تجھ کو مدہم لگی؟
رخِ یار سے ہے بہت کم لگی؟
کیا تجھ کو بھی اس نے کہا کچھ کبھی؟
جو باتیں کہی تھی بتا کچھ ابھی!
تجھے تو وہ دکھتا ہے شام و سحر،
تری دسترس میں ہے اس کا شہر،
مجھے تجھ سے کچھ کچھ حسد ہوچلی،
نہیں دسترس میں میری وہ گلی!!!