مجھے روگ کیا ہے ؟ بتاؤ طبیبو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگمجھے روگ کیا ہے ؟ بتاؤ طبیبو
فقط باندھ کر تم نہ جاؤ طبیبو
مجھے سر پٹخ کے ملے جس سے راحت
کوئی سنگ ایسا دکھاؤ طبیبو
کبھی اس کے خوابوں سے باہر نہ آؤں
مجھے نیند ایسی سلاؤ طبیبو
میں اس کو دوبارہ بچھڑنے نہ دونگا
ذرا شمس الٹا گھماؤ طبیبو
فلک تھرتھراۓ جو اس کو بلاؤں
وہ سنتا نہیں کیوں ؟ بتاؤ طبیبو
جسے پی کے مجھ کو نہ وہ یاد آۓ
دوا کوئی ایسی بناؤ طبیبو
مرے دل پہ میری بھی کچھ دسترس ہو
کوئی ایسا نسخہ بتاؤ طبیبو
بنا کر دکھاؤں تمھیں اس کی صورت ؟
چلو خون میرا بہاؤ طبیبو
اسے ڈھونڈنے میں رکاوٹ بنیں گی
مجھے بیڑیاں نہ لگاؤ طبیبو
فرشتوں کا مجھ کو گماں ہو رہا ہے
ہو تم کون مجھ کو بتاؤ طبیبو
محبت کی طِب سے جو کچھ آشنا ہو
اسے نبض میری دکھاؤ طبیبو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






