مجھے روگ کیا ہے ؟ بتاؤ طبیبو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگمجھے روگ کیا ہے ؟ بتاؤ طبیبو
فقط باندھ کر تم نہ جاؤ طبیبو
مجھے سر پٹخ کے ملے جس سے راحت
کوئی سنگ ایسا دکھاؤ طبیبو
کبھی اس کے خوابوں سے باہر نہ آؤں
مجھے نیند ایسی سلاؤ طبیبو
میں اس کو دوبارہ بچھڑنے نہ دونگا
ذرا شمس الٹا گھماؤ طبیبو
فلک تھرتھراۓ جو اس کو بلاؤں
وہ سنتا نہیں کیوں ؟ بتاؤ طبیبو
جسے پی کے مجھ کو نہ وہ یاد آۓ
دوا کوئی ایسی بناؤ طبیبو
مرے دل پہ میری بھی کچھ دسترس ہو
کوئی ایسا نسخہ بتاؤ طبیبو
بنا کر دکھاؤں تمھیں اس کی صورت ؟
چلو خون میرا بہاؤ طبیبو
اسے ڈھونڈنے میں رکاوٹ بنیں گی
مجھے بیڑیاں نہ لگاؤ طبیبو
فرشتوں کا مجھ کو گماں ہو رہا ہے
ہو تم کون مجھ کو بتاؤ طبیبو
محبت کی طِب سے جو کچھ آشنا ہو
اسے نبض میری دکھاؤ طبیبو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






