مجھے یاد پھر سے وہ آنے لگے ہیں
Poet: عتیق مہدی By: عتیق مہدی, Bhakkarمجھے یاد پھر سے وہ آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
گرفتارِ اُلفت ہوں میں قید میں ہوں
وہ پھر سے تصور پہ چھانے لگے ہیں
کبھی جن کی آنکھوں کی تسکین میں تھا
وہی مجھُ سے آنکھیں چرُانے لگے ہیں
میں محرومِ دیدار ہوں مدُتوں سے
وہ میرا جگر آزمانے لگے ہیں
جو مجنوں وہاں سے نکالے گئے تھے
وہ پھر تیری گلیوں میں جانے لگے ہیں
بڑی مشکلوں سے بھلایا تھا جن کو
تصور میں آ کر ستانے لگے ہیں
کبھی جن کے سائے میں جیتے تھے ہم بھی
وہی دستِ شفقت اُٹھانے لگے ہیں
خوشی سے جدُا ہونے کی بات کی تھی
جو بچھڑے تو آنسو بہانے لگے ہیں
سبھی راز آنکھوں نے پل میں بتائے
جو ہم مدُتوں سے چھپانے لگے ہیں
سبھی جام ہاتھوں سے لیتے رہے ہیں
وہ آنکھوں سے مجھ کو پلانے لگے ہیں
وہی جن کی قربت مری زندگی ہے
مجھے چھوڑ کر دُور جانے لگے ہیں
کبھی جن کی دُنیا و عقبیٰ بھی میں تھا
وہی غیر سے دل لگانے لگے ہیں
عتیقؔ اِن دنوں میں وہ پردہ نشیں ہیں
وہ یوں میرا دل آزمانے لگے ہیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






