محبوب حقیقی
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiبارشوں کے موسم میں
تنہائی عذاب لگتی ہے
ایسی کتاب لگتی ہے
جس کے اوراق کو
مکمل سیاق و سباق کو
پڑھنے کی ضرورت ہو
اگرچہ نہ کوئی صورت ہو
دل کی اُداسی کو
اس روح پیاسی کو
ہواوں کے شور سے
گزرتے ہوئے دور سے
اک چبھن سی ہوتی ہے
اک دُکھن سی ہوتی ہے
کہ نہیں اب وہ بات ہے
دور مجھ سے وہ ذات ہے
جو روح سے تھی قریب تر
جو خود سے تھی حبیب تر
کہ خواہش نفس میں
آزاد بھی ہو ں قفس میں
بارشوں کے موسم میں
جدائی عذاب لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry






